What I have said is true and if anyone wants to file a defamation suit he can do so: Justice Wajihuddin

0
691
What I have said is true and if anyone wants to file a defamation suit he can do so: Justice Wajihuddin
What I have said is true and if anyone wants to file a defamation suit he can do so: Justice Wajihuddin

میں نے جو کہا ہے وہ سچ ہے اور اگر کوئی ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنا چاہے تو کرسکتا ہے: جسٹس وجیہہ الدین

Despite the government’s announcement to file a defamation suit against PM Imran Khan, Justice (retd) Wajihuddin has said that what I have said is true and if anyone wants to file a defamation suit, he can do so.

Addressing a press conference in Karachi along with MQM Pakistan leader Khalid Maqbool Siddiqui, Justice (retd) Wajihuddin said that we all have common issues in Pakistan. So the people of Pakistan are not occupying and we are fighting for them.

He said that the biggest problem was the urban population and Sindh was lagging behind in these issues as well. Earlier we were talking about Karachi and Sindh but now we are talking about urban and rural Sindh for which the floor is being used.

Asked about the defamation suit filed by Fawad Chaudhry, Justice Wajihuddin said, “What I have said is true. If anyone wants to file a defamation suit, he should do so. The courts are open.” Yes, the rule of law means that if someone’s rights have been violated, he should go to court.

He said that the question is whether the rights were violated by Fawad Chaudhry or Imran Khan. An FIR will be registered against the deceased.

He said that as far as denial from Jahangir Tareen was concerned, what did he do? Did they say I’m spending? There is no documented form of such expenditure so it is up to them to refuse. It was very easy.

Justice Wajihuddin said that the issue of sugar which was raised which was discussed up to the commission etc., then what happened to Jahangir Tareen and as a result of this crisis he earned billions of rupees. You have benefited from the strained relations between the two countries.

It may be recalled that the case started when former PTI leader and Justice (retd) Wajihuddin had leveled serious allegations against Imran Khan regarding expenditure.

Talking to a private TV channel, Justice (Retd) Wajihuddin had said that Imran Khan should not be considered as an honest man.

On this, Special Assistant to the Prime Minister Shahbaz Gul rejected the statement of former Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) leader Justice (retd) Wajihuddin and said that his statement regarding Imran Khan’s house expenses was wrong and illogical.

حکومت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کے اعلان کے باوجود جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ میں نے جو کہا ہے وہ سچ ہے اور اگر کوئی ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنا چاہتا ہے تو کرسکتا ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ پاکستان میں ہم سب کے مسائل مشترکہ ہیں۔ تو پاکستان کے لوگ قابض نہیں ہیں اور ہم ان لوگوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ شہری آبادی کا ہے اور سندھ ان مسائل میں بھی پیچھے ہے۔ پہلے ہم کراچی اور سندھ کی بات کرتے تھے لیکن اب شہری اور دیہی سندھ کی بات کر رہے ہیں جس کے لیے فرش استعمال ہو رہا ہے۔

فواد چوہدری کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعویٰ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ میں نے جو کہا ہے وہ سچ ہے، اگر کوئی ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنا چاہتا ہے تو کرے، عدالتیں کھلی ہیں۔ ہاں قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے حقوق پامال ہوئے ہیں تو وہ عدالت میں جائے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ حقوق فواد چوہدری نے پامال کیے یا عمران خان نے؟ متوفی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک جہانگیر ترین کی جانب سے تردید کا تعلق ہے تو انہوں نے کیا کیا؟ کیا انہوں نے کہا کہ میں خرچ کر رہا ہوں؟ اس طرح کے اخراجات کی کوئی دستاویزی شکل نہیں ہے اس لیے انکار کرنا ان پر منحصر ہے۔ یہ بہت آسان تھا۔

جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ چینی کا جو معاملہ اٹھایا گیا جس پر کمیشن وغیرہ تک بات ہوئی، پھر جہانگیر ترین کا کیا ہوا اور اس بحران کے نتیجے میں انہوں نے اربوں روپے کمائے۔ دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات سے آپ کو فائدہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ یہ کیس اس وقت شروع ہوا تھا جب پی ٹی آئی کے سابق رہنما اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے عمران خان پر اخراجات کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا تھا کہ عمران خان کو ایماندار آدمی نہ سمجھا جائے۔

اس پر وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے گھر کے اخراجات سے متعلق ان کا بیان غلط اور غیر منطقی ہے۔ ۔