US will resume talks with the Taliban

0
1376
US will resume talks with the Taliban
US will resume talks with the Taliban

امریکا طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا

The United States has announced that it will resume talks with the Taliban in Qatar next week to address issues such as the war on terror and the humanitarian crisis in Afghanistan.

According to the International News Agency, US State Department spokesman Ned Price, while announcing talks with the Taliban, said that a US delegation led by US Special Envoy Tom West would meet with Taliban representatives in Qatar.

Ned Price added that the two sides would discuss our key national interests, including counter-terrorism operations against the militant group ISIS and al-Qaeda, humanitarian aid, a devastated Afghan economy and the protection of Afghans helping the Americans. Route included.


US Special Envoy Tom West also met with Taliban representatives in Pakistan two weeks ago, but in a statement on Friday said that the United States was currently negotiating to provide aid to the Afghan people on humanitarian grounds only. Will

Tom West added that in order to obtain US financial and diplomatic support, the Taliban must fight terrorism, establish a comprehensive government of all nationalities, respect minorities, women and girls, and provide education and employment. Access must be provided.

It should be noted that the first talks between the US and the Taliban since the Taliban took power in Afghanistan were held on October 9 and 10 in Doha, the capital of Qatar, in which the situation in Afghanistan after the formation of the Taliban government was discussed.

امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں انسانی بحران جیسے دیگر مسائل کو حل کرنے کے لیے اگلے ہفتے قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ کی قیادت میں امریکی وفد قطر میں طالبان نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔

نیڈ پرائس نے مزید بتایا کہ دونوں فریقین ہمارے اہم قومی مفادات پر تبادلہ خیال کریں گے جس میں عسکریت پسند جماعت داعش اور القاعدہ کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں، انسانی امداد، تباہ حال افغان معیشت اور امریکیوں کی مدد کرنے والے افغانوں کو محفوظ دینا راستہ شامل ہے۔


امریکی خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ نے دو ہفتے قبل بھی پاکستان میں طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی جب کہ جمعے کو اپنے بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکا فی الحال صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کو امداد کی فراہمی پر بات چیت کرے گا۔

ٹام ویسٹ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی مالی اور سفارتی مدد حاصل کرنے کے لیے طالبان کو دہشت گردی کو لگام دینے، تمام قومیتوں پر مشتمل جامع حکومت کے قیام، اقلیتوں، خواتین اور لڑکیوں کے احترام اور حقوق کی فراہمی سمیت تعلیم اور روزگار تک مساوی رسائی فراہم کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکا اور طالبان کے درمیان پہلے مذاکرات 9 اور 10 اکتوبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئے تھے جس میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔