The country cannot afford sectarian chaos: Mufti Muneeb

The country cannot afford sectarian chaos: Mufti Muneeb
The country cannot afford sectarian chaos: Mufti Muneeb

ملک فرقہ وارانہ افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا: مفتی منیب

مرکزی روٹ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور یہ فرقہ وارانہ جھڑپوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ را اور بھارت نے حال ہی میں اپنی دہشت گردی کی سرگرمیاں متحرک کررکھی ہیں ، لہذا اگر یہاں فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع ہوگئیں تو اس سے ہندوستان کے مقاصد مستحکم ہوں گے اور پاکستان کمزور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو بھارتی جارحیت ، ہلاکتوں اور غیر انسانی کرفیو ، لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ہم اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کی اس مکمل طور پر انسانیت سوز مسئلہ پر توجہ نہ دینے پر ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کو حکومت کو وہاں کچلنے کے لئے جاری آپریشن کو روکنے کے لئے کوئی واضح پیغام نہیں دیا گیا۔

مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کے اس جابرانہ اقدام کو 5 اگست 2020 کو ایک سال مکمل ہوجائے گا ، پاکستان کے تمام عوام اس کے خلاف احتجاج کریں۔

Mufti Muneeb-ur-Rehman, chairman of the Central Rouit e Hilal Committee, said that this country belongs to all of us and cannot tolerate sectarian clashes.

At a press conference in Karachi, he said that RAW and India had recently activated their terrorist activities. So if sectarian clashes broke out here, it would strengthen India’s goals and weaken Pakistan.

He said it was almost a year ago that Kashmiri’s Indian aggressions, murders and inhuman curfew were exposed and locked in occupied Kashmir.

We strongly condemn the United Nations, the Security Council and international human rights organizations for failing to address this purely humanitarian problem.

At the same time, the Indian government had not been given a clear message to stop ongoing operations to put down Islam there.

Mufti Muneeb-ur-Rehman said that the Indian government’s suppression move will be completed on August 5, 2020 for a year. All people in Pakistan should protest against this.