China warns India to refrains from aggression

0
1344
China warns India to refrains from aggression
China warns India to refrains from aggression

چین نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ جارحیت سے باز رہے

China has warned India to refrain from attempting to annex its territory in Ladakh.

According to the International News Agency, China has warned India that it should refrain from deploying more troops on the Ladakh border and trying to occupy Chinese territory, otherwise it reserves the right to act.

The Chinese Foreign Ministry has accused India of illegally crossing the Line of Actual Control and trying to annex our territory, which is also a violation of peace agreements.

Meanwhile, India denied the allegations, saying that China has deployed a large number of troops along its borders, which has increased the tension. If China wants to reduce tensions, then it should reduce the movement of its forces.

It is noteworthy that India and China have a 3,000-km-long border from the northeastern region of Sikkim to eastern Ladakh and despite the establishment of the Line of Actual Control, conflict continues in most areas.

چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ لداخ میں اپنی سرزمین کو ضم کرنے کی کوشش سے باز رہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ لداخ سرحد پر مزید فوجیوں کی تعیناتی اور چینی سرزمین پر قبضہ کرنے کی کوشش سے باز رہے ، بصورت دیگر وہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے بھارت پر غیر قانونی طور پر لائن آف ایکچول کنٹرول کو عبور کرنے اور ہماری سرزمین کو ضم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے جو کہ امن معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

دریں اثنا ، بھارت نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اپنی سرحدوں پر بڑی تعداد میں فوجی تعینات کیے ہیں ، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر چین کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی افواج کی نقل و حرکت کو کم کرنا چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان شمال مشرقی علاقے سکم سے مشرقی لداخ تک 3 ہزار کلومیٹر طویل سرحد ہے اور لائن آف ایکچول کنٹرول کے قیام کے باوجود بیشتر علاقوں میں تنازعہ جاری ہے۔