Babar Azam does not consider West Indies as easy rivals

0
1207
Babar Azam does not consider West Indies as easy rivals
Babar Azam does not consider West Indies as easy rivals

بابر اعظم ویسٹ انڈیز کو آسان حریف نہیں سمجھتے

Pakistan cricket team captain Babar Azam has said that he does not consider West Indies as an easy opponent. Interesting matches are expected in the home series.

National captain Babar Azam said during the virtual press conference that the way the victories are being achieved, the effort will continue.

The captain said that the coaches must be with the team, but the PCB can tell better in this regard. Chairman Rameez Raja was spoken to before the World Cup. Should have stayed in Pakistan, thank the West Indies team for coming to Pakistan, people were thinking that it is not known whether there will be international cricket in Pakistan now or not.

Babar Azam further said that West Indies team will not take an easy target, during the series will give its 100 percent performance. He could not say what happened to Virat Kohli. Thaqleen Mushtaq supports players, Thaqleen Mushtaq says that we are playing for 220 million people, it is a difficult time when the players become corona positive, we have all gone through this difficult time, negative things in the brain during isolation But we still try to do something positive.

West Indies players specialize in T20, as a captain you should know how to perform with the players, try to listen to the problems of the players, talk to the players with confidence, we are working hard for the results Coming forward.

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ وہ ویسٹ انڈیز کو آسان حریف نہیں سمجھتے۔ ہوم سیریز میں دلچسپ مقابلے متوقع ہیں۔

ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران قومی کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ جس طرح فتوحات مل رہی ہیں، کوشش جاری رکھیں گے۔

کپتان نے کہا کہ کوچز کا ٹیم کے ساتھ ہونا ضروری ہے تاہم اس حوالے سے پی سی بی بہتر بتا سکتا ہے۔ ورلڈ کپ سے قبل چیئرمین رمیز راجہ سے بات ہوئی۔ پاکستان میں رہنا چاہیے تھا، پاکستان آنے پر ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا شکریہ، لوگ سوچ رہے تھے کہ معلوم نہیں اب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ہوگی یا نہیں۔

بابر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم آسان ہدف نہیں لے گی، سیریز کے دوران اپنی سو فیصد کارکردگی دکھائے گی۔ وہ یہ نہیں کہہ سکے کہ ویرات کوہلی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ ثقلین مشتاق نے کھلاڑیوں کو سپورٹ کیا، ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ ہم 220 ملین لوگوں کے لیے کھیل رہے ہیں، یہ مشکل وقت ہوتا ہے جب کھلاڑی کورونا پازیٹو ہوجاتے ہیں، ہم سب اس مشکل وقت سے گزر چکے ہیں، تنہائی کے دوران دماغ میں منفی چیزیں آتی ہیں لیکن پھر بھی ہم کوشش کرتے ہیں کچھ مثبت کرو.

ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی میں مہارت رکھتے ہیں، بطور کپتان آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کھلاڑیوں کے ساتھ کیسا پرفارم کرنا ہے، کھلاڑیوں کے مسائل سننے کی کوشش کریں، کھلاڑیوں سے اعتماد کے ساتھ بات کریں، ہم نتائج کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں، آگے آ رہے ہیں۔