Rupee continues to appreciate against dollar

Rupee likely to recover due to new policy rates
Rupee likely to recover due to new policy rates

ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ جاری ہے

The one-way flight of the dollar has come to a halt thanks to regulatory measures taken by the government and remittances to the Roshan digital account.

In both the foreign exchange markets, remittances from overseas Pakistanis on a monthly basis of ڈھ 2.5 billion have been maintained and positive results of regulatory measures have begun to emerge, which has led to the dollar depreciating again today.

The government’s use of remittances to pay off 25 per cent of GDP in terms of imports, money coming into the Roshan digital account and export earnings prevented the dollar from flying unilaterally in the interbank market. The dollar’s interbank rate fell below Rs 175 on Tuesday despite fluctuations.

In the interbank market, the value of the dollar fluctuated throughout the trading session, but at the close of trading, the dollar’s interbank rate fell further by 41 paise to close at Rs 174.88. Similarly, the open currency market closed at Rs 177, down 80 paise against the dollar.

حکومت کے ریگولیٹری اقدامات اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ترسیلات زر کی بدولت ڈالر کی یک طرفہ پرواز رک گئی ہے۔

زرمبادلہ کی دونوں منڈیوں میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ماہانہ ڈھائی ارب ڈالر کی ترسیلات برقرار ہیں اور ریگولیٹری اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جس کے باعث ڈالر کی قدر میں آج پھر کمی ہوئی ہے۔

درآمدات کے لحاظ سے جی ڈی پی کا 25 فیصد ادا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ترسیلات زر کا استعمال، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں رقم آنے اور برآمدی آمدنی نے ڈالر کو انٹربینک مارکیٹ میں یکطرفہ طور پر اڑنے سے روک دیا۔ منگل کو ڈالر کا انٹربینک ریٹ اتار چڑھاؤ کے باوجود 175 روپے سے نیچے آگیا۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں پورے کاروباری سیشن میں اتار چڑھاؤ رہا تاہم کاروبار کے اختتام پر ڈالر کا انٹربینک ریٹ مزید 41 پیسے کمی سے 174.88 روپے پر بند ہوا۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے 80 پیسے کی کمی سے 177 روپے پر بند ہوا۔