Pakistan will export surplus rice to new international markets

Pakistan will export surplus rice to new international markets
Pakistan will export surplus rice to new international markets

پاکستان اضافی چاول نئی بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرے گا

Federal Minister for National Food Security and Research Syed Fakhr Imam said on Monday that surplus stocks of rice would be recovered and new international markets were being explored.

He expressed these views while addressing a function at Agricultural University Multan. He said that the consumption of rice in the country is 3.5 million tons but at present there is a stock of more than 8 million tons.

The minister told the media that he had talked to Abdul Razzaq Dawood, Advisor to the Prime Minister on Trade and Investment, to explore new global rice markets.

Fakhr Imam also talked about the value addition of agriculture and livestock products and said that Pakistan is the seventh largest producer of milk but its value addition is only 30%. He said that value addition in agricultural products could fetch huge foreign exchange.

The Minister said that due to the efforts of the present government, the wheat production in the country has increased by one to two man per acre. He added that the government is working hard to increase production and this is the first time that the federal and provincial governments have been monitoring wheat production on a weekly basis.

He disclosed that 99% (16.7 million acres) sowing was completed on time in Punjab and a similar pattern was observed in other provinces.

Fakhr said that the government has maintained track and trace record of wheat varieties provided to the farmers. He also disclosed that Pakistan had 6.25 million tonnes of certified wheat seeds during the current season and the target of 28.9 million tonnes of wheat would be easily achieved if the weather was as expected.

The provincial minister admitted that there were some problems in the distribution and supply of urea fertilizer which the Punjab government was resolving but there was no problem in urea production.

Last year, the production of urea was 6 million tons, which has increased to 300,000 tons this year.

وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے پیر کو کہا کہ چاول کا فاضل ذخیرہ برآمد کیا جائے گا اور نئی بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں چاول کی کھپت 3.5 ملین ٹن ہے لیکن اس وقت 8 ملین ٹن سے زیادہ کا ذخیرہ موجود ہے۔

وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد سے چاول کی نئی عالمی منڈیوں کی تلاش کے لیے بات چیت کی ہے۔

فخر امام نے زراعت اور لائیو سٹاک مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دودھ پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک ہے تاہم اس کی ویلیو ایڈیشن صرف 30 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن سے بھاری زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے ملک میں گندم کی پیداوار میں ایک سے دو من فی ایکڑ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیداوار کو مزید بڑھانے کے لیے کوشاں ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہفتہ وار بنیادوں پر گندم کی پیداوار کی نگرانی کر رہی ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ پنجاب میں 99 فیصد (16.7 ملین ایکڑ) بوائی وقت پر مکمل ہوئی اور اسی طرح کا نمونہ دیگر صوبوں میں بھی دیکھا گیا۔

فخر نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو فراہم کردہ گندم کی اقسام کا ٹریک اور ٹریس ریکارڈ برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ رواں سیزن کے دوران پاکستان کے پاس گندم کے 6.25 ملین ٹن تصدیق شدہ بیج موجود تھے اور اگر موسم توقعات کے مطابق رہا تو 28.9 ملین ٹن گندم کا مقررہ ہدف آسانی سے حاصل کر لیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے تسلیم کیا کہ یوریا کھاد کی تقسیم اور فراہمی میں کچھ مسائل ہیں جنہیں حکومت پنجاب حل کر رہی ہے تاہم یوریا کی پیداوار میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

گزشتہ سال یوریا کی پیداوار 60 لاکھ ٹن تھی جو اس سال 3 لاکھ ٹن بڑھ گئی ہے۔